ہمارے بچپن کا ہیرو ”زکوٹا جن“

بچپن کی یادیں بھی کتنی حسین ہوتی ہیں۔ اسکول سے واپس آتے اور بغیر جوتے اتارے بستہ ایک طرف پھینکتے اور بیٹھ جاتے ٹی وی کے آگے اپنی آنکیھں گاڑ کے، کیونکہ ہمارا سب سے پسندیدہ ڈرامہ “عینک والا جن” نشر ہونے والا ہوتا تھا۔

عینک والا جن 90ء کی دہائی کے بچوں میں یکساں طور پر آج بھی مقبول ہے۔ مگر وقت بدلا، ہم نے بچپن کو خیرباد بولا اور دیکھتے ہی دیکھتے چینلوں کے پاگل پن نے ٹی وی اسکرینز پر قبضہ جمالیا، مگر ایسا کوئی ڈرامہ دوبارہ نظر نہیں آیا۔ پھر ہم بھی ان چینلوں اور انٹرنیٹ پر موجود مختلف پروگرامات کے ذریعے انٹرٹیمنٹ کی پیاس بجھانے لگے، ساتھ ہی بچپن کی حسین یادوں پر اپنے ہی منہ مسکرانے لگے۔

پچھلے سال ہمیں ٹی وی پر اس ڈرامے کے دو اہم کردار ” زکوٹا جن” اور ” بل بتوڑی ” نظر آئے۔ ان کے پاس اس ڈرامے کی طرح کوئی جادوئی طاقت تو نہ تھی مگر دونوں بہت ہی ناتواں اور قابلِ رحم نظر آئے۔ نیکی اور بدی کا سبق سکھانے والے ہمارے بچپن کے ہیرو کسی امید کا انتظار لیے اس دنیا سے چل بسے۔

بچپن کی یادوں کے بکسے میں قید ایک یاد زکوٹا جن کا یہ جملہ ” مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں، میں کس کو کھاؤں” بھی ہے۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ جب ہمارے پاس ایک چینل ہوتا تھا تب بھی بچوں کے لیے اس میں خاص وقت متعین ہوتا تھا مگر اب ہمارے پاس سینکڑوں چینل ہیں لیکن کسی بھی چینل کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ بچوں کے لیے کوئی پروگرام دکھایں جس میں قومی زبان کو فروغ دیں اور نیکی اور بدی کی تمیز سکھایں۔

زکوٹا جن اور بل بتوڑی اب ہمارے ساتھ نہیں رہے مگر ان کی یاد ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے اپنے فنکاروں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے غم بھلا کے ہم بچوں کے لیے خوشی پیدا کر رہے ہوتے مگر افسوس صد افسوس ہم تو بھلانے میں سب سے ماہر ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s