مجھے جناح کے پاکستان میں جینا ہے

مجھے آج بھی یاد ہے جب 2006 میں والد محترم کی پوسٹنگ کے بعد میں نے رحیم یار خان کے ایک سرکاری اسکول میں ایڈمیشن لیا تھا۔ انٹرویو کے دواران پرنسپل نے مجھ سے سوال کیا تھا۔۔۔ بیٹا جناح کون تھے؟ ۔۔۔ ‘پاکستان کے بانی’ ۔۔۔ میں نے بہت معصومیت سے جواب دیا تھا۔

آج بارہ سال بعد جب میں پاکستان کا سوچتا ہوں تو پاکستان کے بانی جناح کو یاد کر کے ان سے اپنے سوالوں کا جواب طلب کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کہ آپ نے کس واسطے مسلمانوں کو ایک اَلگ ملک بنا کے دیا؟

اس لیے کہ یہاں کافر کافر کے نعرے کھلے عام لگیں؟
اس لیے کہ کسی کے استقبال کو ہم حج سے بڑا کام کہہ دیں؟
اس لیے کہ ہمیں مجبور کر دیا جائے کہ ہم اقلیتوں کو کافر بولیں؟
اس لیے کہ انصاف کی بات کرنے والے بند کمروں میں دھاندلی کا ساتھ دیں؟
اس لیے کہ یہاں کے لیڈر عہدے کی لالچ میں اپنے دین سے دور جائیں؟
اس لیے کہ عام آدمی مرنے کو جگہ تلاش کرے؟
یا پھر اس لیے کہ یہاں کے کتے عالیشان محلوں میں رہیں اور غریب سڑکوں پر؟

میرے جوابات کا مجھے جواب تو نہ مل سکا مگر اس کوشش میں، میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ آج کا پاکستان جناح کا پاکستان نہیں۔ جناح کا پاکستان یہ تب ہوتا جب ہم سیاسی آزادی اور معاشی آزادی حاصل کرتے۔ یا پھر تب یہ جناح کا پاکستان ہوتا جب ہم اقلیتوں کو پاکستان میں مارتے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرتے۔ کیا ہم قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کو کی جانے والی تقریر کو بھول گئے ہیں؟ جس میں انہوں نے واضح کردیا تھا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ اگر یاد نہیں تو آئیے میں آپ کو ان کے الفاظ یاد دلاتا چلوں۔۔۔

آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

اگر یاد آ گیا ہو تو میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ آج کا پاکستان جناح کا پاکستان اس لیے نہیں کیونکہ آج ہم فرقہ واریت کی لڑائی لڑنے لگ گئے ہیں اور دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

کچھ روز قبل صوبہ سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار جبران ناصر کو کالعدم جماعت کے لوگوں نے دھمکایا اور ان کی زبان سے احمدیوں کو کافر بلوانا چاہا۔ کیا عام آدمی کے لیے پاکستان میں رہنے کے لیے مذہب کا غلط استعمال ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ اِس سے دو ماہ قبل سیالکوٹ میں اقلیتوں کی ایک مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا۔ خبر سن کے میرا دل تو خون کے آنسو رونے لگا کہ کوئی مسلمان کسی مسجد کو کیسے شہید کر سکتا ہے پھر چاہے وہ کسی سنّی کی مسجد ہو یا شیعہ کی یا کسی احمدی کی۔ مندر ہو یا مسجد جناح کے پاکستان میں تو دونوں قبول ہونے چاہیے نا؟

اب سوچ اس بات کی ہے کہ کیا جناح کا پاکستان صرف خواب ہی رہے گا؟ جناح کا پاکستان آپس میں لڑنے سے نہیں بنے گا بلکہ ہمیں ان قوتوں سے لڑنا ہے جو پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتی ہیں۔ کچھ مذہبی انتہاپسند اور دہشتگرد اس ملک کو اپنی خواہشات کے مطابق چلانا چاہتے ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ ‏دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہاپسندی کا خاتمہ ضروری ہے اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے نفرت انگیزی کا خاتمہ ضروری ہے۔‏ یہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتہاپسندی کا خاتمہ گولی اور طاقت سے ممکن نہیں بلکہ ‏تعلیم کے فروغ سے انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ صرف تب جا کر آپ اور میں جناح کے پاکستان میں جی سکیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s